نئی دہلی، 27/جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے کسانوں کی خودکشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی جم کر تنقید کی ہے۔سپریم کورٹ نے پوچھا کہ فصلوں کی بربادی، قرض اور قدرتی آفات سے کسانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مرکز اور ریاستی حکومتیں ایک جامع پالیسی کیوں نہیں لا رہی ہیں؟۔کئی کسان فصلوں کی بربادی اور قرض سے پریشان ہوکر خود کشی کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ گجرات حکومت کے خلاف دائر مفادعامہ کی ایک درخواست پر سماعت کر رہا ہے جس میں گجرات حکومت سے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے اس درخواست کا دائرہ گجرات سے بڑھاتے ہوئے پورا ملک کردیاہے۔سپریم کورٹ نے مرکز، ریاستی حکومتوں اور ریزرو بینک سے کسانوں کی خود کشی کی وجوہات کے بارے میں چارہفتوں میں رپورٹ دینے کو کہا ہے۔کورٹ نے حکومتوں سے فصل انشورنس کو لے کر اٹھائے جا رہے اقدامات کی تفصیلی معلومات مانگی ہے۔عدالت عظمیٰ نے پوچھاکہ یہ منصوبہ کتنے مؤثر طریقے سے لاگو کیا جا رہا ہے۔دراصل این جی او سٹیزنس ریسورس اینڈایکشن انیشی ایٹو (کرانتی)نے عرضی دائر کرکے کہا ہے کہ گجرات میں 2003سے 2013کے درمیان تقریباََ619کسانوں نے خود کشی کی۔عرضی میں ان کسانوں کے خاندانوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے معاوضے کے علاوہ 30 ہزار روپے فی ہیکٹر کی شرح سے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔این جی او نے پہلے گجرات ہائی کورٹ میں عرضی دائرکی تھی جوکو ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ وہ پالیسی ساز معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔اس کے بعداس نے سپریم کورٹ کا رخ کیا۔اب سپریم کورٹ نے اس کا دائرہ گجرات سے بڑھا کرپورے ملک کے کسانوں کے لیے کر دیا ہے۔